Skip to main content

Islah e ummat

موجودہ خانقاہی نظام کی اصلاح

 قسط اول

نظامِ خانقاہی کی بنیاد دو چیزوں پر ہے ، ایک تزکیۂ نفس ( تعلیمِ قرآن وسنت)اور دوسرا خدمتِ خلق ، قرآن وسنت اگر پیرانِ طریقت خود ہی نہ جانتے ہوں تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ وہ دوسروں کو صحیح راستہ دکھا سکیں ؟ سجادہ نشینان کو کم سے کم حلال اور حرام کا فرق پتہ ہو ، اور وہ اعلانیہ ( کُھلے عام ) شریعت کی مخالفت بھی نہ کریں ، اگر علی الاعلان وہ شریعت کی مخالفت کریں تو پھر وہ ان پاکانِ امت ( اولیاء کرام) کی جانشینی کا حق نہیں رکھتے ۔ فی زمانہ اکثر پیرانِ کرائم ( crime) تعلیم سے تو اتنے دُور ہیں جیسے علم انکا دشمن ہو ۔ کچھ سجادہ نشین حضرات کو دیکھنے ، سننے اور ان سے ملاقات کرنے کا شرف حاصل ہوا تو مجھے اندازہ ہوا کہ یہ پیر حضرات ( اکثر) خود کو عام مخلوق 
سے بالاتر تصور کرتے ہیں ، باقی لوگوں کو کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں ۔ 

انکے نزدیک پیسہ سب کچھ ہے اسی لئے پیسے والے لوگ جو بھی مشورہ دیتے ہیں وہ مان کر اپنی خانقاہوں کا ستیاناس کر تے ہیں ، امراء اور سیاستدان انکے ہم نوالہ ہم پیالہ ہونے کا شرف پاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ غریب مرید کی ان تک رسائی نہیں ۔ میں ایک عظیم خانقاہ کا سجادہ نشین ہونے کی حیثیت سے اُن جعلی اور دو نمبر قسم کے پیرانِ عظام کو دعوتِ فکر دے رہاہوں کہ تمھارے غریب یا امیر مُرید تمھیں نذرانہ اسلئے دیتے ہیں کہ انکے خیال میں آپ دین کی خدمت کا فریضہ سرانجام دےرہے ہیں ، اسلئے نہیں کہ آپ شراب وکباب جیسی حرام مجالس پر مریدین کے خون پسینہ کی کمائی ضائع کردیں ۔ کوئی آپکو آپکی ذات کیلئے بھی نذرانہ دے تو کیا آپ کو اس پیسے سے جوا، شراب نوشی ، بدکاری ایسے قبائح کی شریعت سے اجازت مِل جائے گی ؟؟؟ آپ پر شریعت لاگُو نہیں ہوتی ؟؟؟؟ خدا کیلئے رحم کیجئیے ان غریبوں پر جن کے مال پر آپ لوگ پل رہے ہیں ، بڑے بڑے بنگلے ، گاڑیاں ، کوٹھیاں اور صرف لوگوں پر اپنا رعب جمانے کیلئے نوکروں چاکروں کی ایک لمبی فہرست ۔ ۔ ۔ یہ کانسا خانقاہی نظام ہے ؟؟؟ اگر ضرورت کے تحت ایک آدھ چیز ہو یا جائز اور نیک کام کیلئے ہو تو حرج نہیں لیکن ایسا لائف سٹائل تو وزراء کا بھی نہیں جیسا آپ لوگوں کا ہے ۔ شاید وزراء سے ملاقات آسان ہو لیکن ان پیروں سے مِلنا بہت مشکل کام ہے ۔ پہلے تو دہلیز پہ بوسہ لازم ہے ورنہ مرید منکِر اور گستاخ قرارپائے گا ، پھر اگر بیچارہ مُلاقات کر بھی لے تو ایسے ہاتھ باندھے کھڑا رہتا ہے کہ زمانہ جاہلیت کی غلامی کی منظر کشی ۔ ۔ ۔۔ میں پوچھتاہوں ہوں کہ جب کوئی سفید ریش شخص آپکے سامنے جُھک کر سلام کرتا ہے تو اندرسے کوئی غیرت ، شرم و حیا نام کی چیز مجبور نہیں کرتی کہ اسکو منع کروں ؟؟؟؟ آخر ہماری ( پیرانِ عظام کی ) اوقات ہی کیا ہے کہ لوگ ہمارا اس طرح کا ادب کریں اور ہم گونگے شیطان بن کر لوگوں کی تذلیل سے لطف اندوز ہوں !!!
 ایسے ایسے احمق دیکھے ہیں میں نے اس مسند پر کہ اپنا ہاتھ لوگوں کے آگےخودکرتے ہیں کہ لوگ بوسہ دیں ( لاحول ولاقوۃ الا باللہ ) اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ بعض کمینہ صفت لوگوں کے دل میں یہ خواہش بھی ہے کہ مریدین 
انکی قدم بوسی کریں اور پھر عملاً ایسا ہوتا بھی ہے ۔

 از قلم : صاحبزادہ سید کرامت علی حسین سجادہ نشین علی پور سیداں شریف نارووال

Comments

Popular posts from this blog

sunnah of eating

Sunnah Of Eating  Eat according to Sunnah wash your hands before and after the eating Sit on the ground   Take meal with your right hand Eat by using two fingers and thumb of the right hand Start eating from "Bismillah" Start eating from nearest                      "The blessings descends in the middle of the food so eat from the edges and do not eat from the middle"  Don't  dislike any food Don't leave the food in your plate Say "ALLHAMDULLILAH" after completing you meal